حفاظ نے صحیح بخاری کے اسی ۸۰ رجال کو ضعیف قرار دیا ہے, اس طرح انہوں نے صحیح بخاری کیلیے سب سے بڑی مشکل پیدا کر دی ہے- کیونکہ ان میں بعض رجال کاذب اور غیر معتبر ہونا اس قدر مسلم ہے جن میں شک کرنے کی کوئ گنجایش نہیں چناچہ ان کا حال معلوم ہے- لیکن بعض رجال ایسے بھی ہیں جن کا حال مجحول ہے- لہذا اس قسم کے افراد حدیث کی اسناد میں آیے ہیں- ان کے باریمیں ہمارے لیے حدیث کی تشخیص بڑا مشکل مسلہ ہے- ان مجحول الحال راویوں میں ہی حضرت ابن عباس کا غلام عکرمہ ہے- اس نے قدر حدیثیں نقل کی ہیں جس کی حد و انتہا نہین- چناچہ اس کی جھوٹی حدیثوں سے حدیث و تفسیر کی دنیا مّملو نظر آتی ہے- حالانکہ بعض رجال نے اسے مجحول الحال , کاذب اور خوارج کہ پیرو بتلایا ہے- یہ امرا سے انعامح حاصل کر کے حدیثیں گڑھتا تھا- علمایے رجال نے اس جھوٹ کے متعدّد شواہد نقل کیے ہیں
ضحى الإسلام ـ الجزء ۲ صفہہ ۱۱۷,۱۱۸
ضحى الإسلام ـ الجزء ۲ صفہہ ۱۱۷,۱۱۸



No comments:
Post a Comment